حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ بنت الہدىٰ (رجسٹرڈ)، ہریانہ الہند کی جانب سے نئے سال کے آغاز پر “نیا سال—نیا عزم: خواتین کے لیے مہدوی اخلاق اور عملی تبدیلی کا پیغام” کے عنوان سے خصوصی آن لائن درسِ اخلاق کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام گوگل میٹ پلیٹ فارم کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں مختلف مقامات سے تعلق رکھنے والی طالبات اور خواتین نے بھرپور شرکت کی۔
درس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جس کے بعد منقبت خوان خواہران نے بارگاہِ اہلِ بیت علیہم السّلام میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔
اسی سلسلے میں تمرینِ خطابت کے طور پر مدرسہ کی ایک طالبہ نے موضوعِ درس سے ہم آہنگ مختصر مگر مؤثر تقریر بھی پیش کی۔
اس نشست کی خطیبہ عالمہ محترمہ شمائلہ پروین صاحبہ مظفر نگری تھیں۔
انہوں نے نہایت شائستہ، مدلل اور روان اسلوب میں مہدوی اخلاق، عملی خودسازی اور خاتونِ مؤمنہ کی سالِ نو میں ذمہ داریوں پر انتہائی جامع خطاب کیا۔
موضوع: نیا سال — نیا عزم؛ خواتین کے لیے مہدوی اخلاق اور عملی تبدیلی کا پیغام
أعوذ باالله من الشیطان الرجیم
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الحمدلله رب العالمین، والصلوۃ والسلام علیٰ أشرف الانبیاء والمرسلین، خاتم النبیین، مولانا و مولا الثقلین حضرتِ محمدِ مصطفیؐ۔
اما بعد!
فقد قال الله تبارک و تعالیٰ:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
إِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأَنفُسِہِمْ.
اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر کی حالت نہ بدل دیں۔
تمام تعریف و توصیف، تمام حمد و ثنا اُس خداوندِ عالم کے لیے جس کی صفت "رَضیٰ"—یعنی جلد راضی ہونے والا—ہے۔ وہی خدا قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ کسی قوم کی حالت اُس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی نہ لائے۔
عزیزان!
آپ سب کی خدمت میں ولادتِ باسعادت امام محمد تقی علیہ السلام کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ اور آج نیا سال بھی اسی نورِ ولادت میں ڈوبا ہوا ہے، کیونکہ ۱۳ رجب—امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی عظیم عید—بھی ہمارے در میان جلوہ گر ہے۔
اس سعادت بھری گھڑی میں آپ سب کی خدمت کے لیے مجھے، ایک معمولی طالبہ کو دعوت دینا میرے لیے باعثِ شرف بھی ہے اور ایمان افروز ذمہ داری بھی۔ دعا ہے کہ پروردگار مجھے وہ توفیق اور گویائی عطا فرمائے کہ میرے چند کلمات آپ کی خدمت میں خیر، ہدایت اور بیداری کا ذریعہ بن جائیں۔
عزیزانِ گرامی!
نیا سال صرف کلینڈر کا پلٹ جانا نہیں، بلکہ زندگی کے صفحے کو بدلنے کا نام ہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جس پر ہم بہترین تبدیلی اور قربِ الٰہی کی نئی داستان لکھ سکتے ہیں۔
یہ وقت ہمیں جھنجھوڑ کر یاد دلاتا ہے:
کیا ہم نے پچھلے سال خود کو بہتر کیا؟
کیا ہمارے گھروں میں مہدوی اخلاق کی خوشبو پھیلی؟
کیا ہم امامِ وقتؑ کے حقیقی منتظرین میں شامل ہونے کی کوشش کر سکے؟
جب ہم "نیا سال، نیا عزم" کہتے ہیں تو آغاز ہمیشہ خود سے ہوتا ہے۔
ایک عورت کی عملی تبدیلی کا پہلا قدم اخلاق کی اصلاح ہے۔
خاتونِ مومنہ:
• خوش اخلاق ہو• خندہ پیشانی سے پیش آئے• گھر والوں کے ساتھ نرمی و مسکراہٹ سے پیش آئے• مشکلات میں بردباری اختیار کرے
ایسی عورت اپنے گھر کے لیے نعمت اور محبوبیت کا مرکز بن جاتی ہے۔ خوش مزاج عورت زندگی کی پریشانیوں پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی سکون سے گزرتی ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"خوش اخلاقی سے بڑھ کر زندگی میں کوئی چیز نہیں۔"
اور جو عورت بد اخلاق ہوتی ہے، پریشانیوں میں واویلا کرتی ہے، تلخی زبان سے بولتی ہے، اس کی زندگی بھی تلخ ہو جاتی ہے اور وہ اپنے گھر والوں کی زندگی بھی بے سکونی کا شکار کر دیتی ہے۔
خاتونِ محترمہ!
اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کی اور آپ کے گھر والوں کی زندگی بہتر گزرے تو اپنے اخلاق کی اصلاح کیجئے۔
آپ چاہیں تو گھر کو جنت بنا سکتی ہیں اور چاہیں تو بداخلاقی سے گھر کو جہنم کر سکتی ہیں۔
مہدوی تعلیمات کہتی ہیں:
جو عورت
• دل کو سچائی سے• رویے کو نرمی سے• اور گھر کو ایمان کی خوشبو سے مہکا دے،
وہی حقیقی منتظرہ ہے۔
اسی لیے اس سال ہمارا ارادہ یہ ہونا چاہیے کہ:
"میں خود کو امام زمانہؑ کے قابل بنانے کی کوشش کروں گی۔"
ہر دن اپنے نفس کا محاسبہ کیجئے۔
تین سوال خود سے پوچھیے:
کیا میرے اخلاق میں نرمی آئی؟
کیا میرا گھر میرے رویے سے روشن ہوا؟
کیا میرا دل امامؑ کے ذکر سے قریب ہوا؟
محاسبہ سزا نہیں، روشنی ہے۔
نئے سال کے نئے ارادے کے ساتھ مہدوی اخلاق کو اپنائیں، کیونکہ مہدوی اخلاق عورت کی زینت ہے اور گھر کی رونق۔
نرمی کمزوری نہیں، طاقت ہوتی ہے۔
دلوں کو جوڑتی ہے۔
صبر وہ زینت ہے جو ہمیں امامؑ کے منتظرین میں شامل کرتی ہے۔
چھوٹے قدم بڑی تبدیلی لاتے ہیں:
• روز دس منٹ قرآن• شکایت کم، شکر زیادہ• ہر جمعہ امامؑ کی نیت سے دعا• بچوں کو روز ایک مہدوی تربیتی بات
• ماں کی گود کو پہلی تربیت گاہ بنائیں
ایسی تربیت دیں کہ کوئی باذر اور کوئی سلمان بن سکے۔
خواتین گرامی!
آج عورت تعلیم اور شعور میں آگے ہے، مگر فیشن، دکھاوا اور مقابلہ آرائی نے اس کے دل کا سکون چھین لیا ہے۔
نیا سال ہمیں دعوت دیتا ہے کہ زندگی کو پھر سے مہدوی اخلاق کے مطابق گزاریں۔
مہدوی خاتون کا اصل حسن اُس کا اخلاق اور کردار ہے۔
فیشن چند دن کا، میک اپ چند گھنٹوں کا، مگر اخلاق کی خوشبو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
مہدوی خاتون کی پہچان:
• نرمی• سچائی• صبر• خیر خواہی• اعتدال•محتاط گفتگو• سنجیدہ تربیت• عبادت میں پختگی
یہی صفات اسے "کنیزِ فضہ" جیسا کردار عطا کرتی ہیں۔
حقیقی منتظرہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھتی، بلکہ عہد کرتی ہے:
میں گھر میں عدل قائم کروں گی۔
میں رویوں میں سنجیدگی لاؤں گی۔
میں امامؑ کی محبت عمل سے ثابت کروں گی۔
میں اپنی زبان کو سکون کا ذریعہ بناؤں گی۔
یہی وہ اخلاق ہیں جو ظہور کے ماحول کو قریب کرتے ہیں۔
عزیزانِ گرامی!
نیا سال ہمیں بدلنے آیا ہے، اگر ہم بدلنے کا ارادہ کریں۔
آخر میں بارگاہِ رب العزت میں دعا ہے:
پروردگارا! اس نئے سال کو خیر، نور اور ہدایت کا سال بنا دے۔
دلوں میں نرمی، زبانوں میں پاکیزگی اور گھروں میں سکون نازل فرما۔
پروردگارا! سادگی اور مہدوی اخلاق کی نعمت عطا فرما۔
خواتینِ مؤمنات کو ہر فتنے سے محفوظ رکھ۔
اور ہمیں امامِ زمانہؑ کے سچے منتظرین میں شامل فرما۔
ربنا تقبل منا، إنک أنت السمیع العلیم.









آپ کا تبصرہ